[-]
Welcome, Guest
You have to register before you can post on our site.

Username
  

Password
  

[-]
Online Users: 13
0 Member(s) | 13 Guest(s)
[-]
Latest Posts
فرخ بھابھا نے مقامی ...
Posted by: munawer gondal
Today 11:07 AM
RE: Kise Kise forum ...
Posted by: Dani Baba
Today 02:47 AM
RE: ap ko kon sa gir...
Posted by: Amjad
Today 12:07 AM
RE: Kise Kise forum ...
Posted by: Amjad
Today 12:00 AM
RE: Space Saving Kit...
Posted by: Amjad
Yesterday 11:46 PM
dekh bhai
Posted by: sono
Yesterday 09:04 PM
Aurat ko galian
Posted by: sono
Yesterday 09:02 PM
falling in love is n...
Posted by: sono
Yesterday 09:01 PM
RE: Space Saving Kit...
Posted by: sono
Yesterday 09:00 PM
RE: Kise Kise forum ...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:50 PM
RE: ziyda bolny wala...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:48 PM
RE: Space Saving Kit...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:42 PM
RE: Beautiful Center...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:41 PM
RE: kon se member ka...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:40 PM
RE: rizaq main barka...
Posted by: Mozzam
Yesterday 05:37 PM
[-]
Statistics
» Members: 326
» Latest member: Sanawar Hussain
» Forum threads: 4,744
» Forum posts: 29,758

Full Statistics
[-]
Latest Users
Sanawar Hussain
01-25-2015 06:40 PM
ward4321123
01-22-2015 05:30 PM
EmmaJames
01-14-2015 01:01 PM
innoocentangel
01-14-2015 12:12 PM
richalabe
01-14-2015 11:05 AM
johnclever84
01-13-2015 04:44 PM
wood4321123
01-13-2015 04:22 PM
Farooq Gondal
01-12-2015 11:29 PM
Tasawar Chishti
01-10-2015 09:27 PM
Subhani Saab
01-06-2015 04:53 AM
  فرخ بھابھا نے مقامی سطح پرتھری ڈی پرنٹر تیارکیاہے
Posted by: munawer gondal - Today 11:07 AM
2 Views - No Replies

İmage


فرخ بھابھا بی ایس سی فائنل کا طالب علم ہے ۔ فوٹو : فائل


[b]کراچی: پاکستان
کے باصلاحیت نوجوان سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے میدان میںاپنی صلاحیتوں کالوہا
عالمی سطح پرمنوا چکے ہیں اور ب ہارڈویئرکے میدان میںبھی کامیابی کے جھنڈے
گاڑرہے ہیں۔ [/b]

اکراچی کے 23سالہ نوجوان طالب علم فرخ بھابھا نے مقامی سطح پرتھری ڈی
پرنٹر تیارکیاہے جس کی لاگت انٹرنیشنل مارکیٹ کے مقابلے میں 4 گنا کم ہے۔
فرخ بھابھانے ایکسپریس کو بتایاکہ تھری ڈی پرنٹرپلاسٹک کے میٹریل سے کوئی
بھی آبجیکٹ منٹوںمیں تیار کرسکتا ہے۔ پرنٹرکو کنٹرول کرنے کے لیے سافٹ
ویئربھی مقامی سطح پرتیار کیاجا رہاہے جسے موبائل فون کے ذریعے بھی
مانیٹراور آپریٹ کیا جاسکے گا۔ تھری ڈی اسکینرکی تیاری کے پروجیکٹ پربھی
کام شروع کردیا ہے جو KINECTسینسرز پرمشتمل ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکی مقامی
سطح پر تیاری پاکستان میںتھری ڈی ٹیکنالوجی کودوام حاصل ہوگا۔

یہ انجینئرنگ کے شعبے میںانقلابی پیش رفت ہے جس سے پاکستان میں
آٹوسیکٹر، میڈیکل اینڈسرجری، دندان سازی کے شعبے کے ساتھ مقامی
مینوفیکچرنگ سیکٹرکو بھرپور فائدہ ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکے ذریعے پلاسٹک کے
ساتھ لچک دارپلاسٹک، ربراور لکڑی جیسے میٹیریل کی اشیابھی تیارکی جاسکیں
گی۔ فرخ بھابھا SZABISTمیں بیچلرآف سائنس(کمپیوٹنگ) کے فائنل ٰایئرکے طالب
علم ہیں۔ انھوںنے دنیامیں تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر
کی ترقی کے امکانات کودیکھتے ہوئے پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ پرکام کافیصلہ
کیااور اپنے فائنل پروجیکٹ کے طورپر تھری ڈی پرنٹنگ کاانتخاب کیا۔ وہ اب
تک 3تھری ڈی پرنٹرزتیار کرچکے ہیں، چوتھاپرنٹر زیرتکمیل ہے۔ فرخ بھابھاکا
تیارکردہ پرنٹرایک فٹ اونچااور ایک فٹ چوڑاکوئی بھی آبجیکٹ تیارکر سکتاہے۔

اب تک پاکستان میں تیارکردہ یہ سب سے زیادہ گنجائش کا پرنٹرہے ۔ فرخ
بھابھاکو دسمبر2014 میںغلام اسحٰق خان یونیورسٹی میںمنعقدہ ایک مقابلے میں
8پروجیکٹس میں سب سے اہم اورمنفرد قراردیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کودیکھتے
ہوئے بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی مائکروسافٹ نے انھیں مائکروسافٹ انوویشن
سینٹرکراچی میںشامل کیاجہاں وہ مائکروسافٹ کی سپورٹ سے سافٹ ویئرکی تیاری
میںمصروف ہیں۔ یہ سافٹ ویئر پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ اور مینوفیکچرنگ کے
شعبے میںاہم سنگ میل ہوگا۔ سافٹ ویئرکا بیٹاورژن رواںسال کے وسط تک متعارف
کرادیا جائے گا۔ فرخ بھابھا کاکہنا ہے کہ پاکستان میںتھری ڈی پرنٹرزکی
تجارتی پیمانے پرتیاری کی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرایک لاکھ روپے میںایک سال کی وارنٹی،
سافٹ ویئراور ٹریننگ کے ساتھ مہیاکیا جاسکتا ہے جبکہ درآمدی پرنٹرکی لاگت
3سے 4لاکھ روپے ہوگی۔ پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرمیں مختلف
ملکوںسے درآمدکردہ کمپونینٹس استعمال کیے گئے ہیںتاہم لاگت کم کرنے
اورپاکستانی ماحول اورتقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مقامی سطح پربھی
سلوشنز اورکمپونینٹ تیارکیے گئے ہیں۔


    Print this item Send this item to a friend

      dekh bhai
    Posted by: sono - Yesterday 09:04 PM
    8 Views - No Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Aurat ko galian
    Posted by: sono - Yesterday 09:02 PM
    8 Views - No Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      falling in love is not haram
    Posted by: sono - Yesterday 09:01 PM
    10 Views - No Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Apne zindge ka kaue....
    Posted by: Amjad - Yesterday 02:06 AM
    19 Views - 1 Replies

    Apne zindge ka kaue kushgwar aour nakushgwqar waqia ?

    Print this item Send this item to a friend

      Beautiful Centerpieces With Floating Candles .
    Posted by: Komal - 01-26-2015 07:52 PM
    29 Views - 1 Replies

    İmage
    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Space Saving Kitchen Storage & Organization Solutions
    Posted by: Komal - 01-26-2015 07:47 PM
    37 Views - 3 Replies

    İmage
    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      پاکستان: جرائم کی تحقیقات کیلئے جدید ترین طریقے کا استعمال
    Posted by: munawer gondal - 01-26-2015 06:54 PM
    29 Views - 1 Replies

    پاکستان: جرائم کی تحقیقات کیلئے جدید ترین طریقے کا استعمال
    İmage
    کرائم سین انویسٹی گیشن یونٹس کا ایک رکن ایک گھر سے فنگر پرنٹس اکھٹے کررہا ہے — رائٹرز فوٹو
    لاہور : امریکا کے ممتاز فارنزک سائنسدان محمد طاہرنے ایسے شواہد دریافت کیے جن سے باکسر مائیک ٹائسن کو جنسی زیادتی کے جرم میں جیل بھیجنے، سیریل کلر جون وائن گیسی کو گرفتار کرنے اور ڈاکٹر سام شیپرڈ کو بیوی کے قتل کے الزام سے بری کرنے میں مدد ملی۔
    İmage
    محمد طاہر پنجاب فارنزک لیبارٹری کے ڈائریکٹر جنرل— رائٹرز فوٹو
    اورپھر محمد طاہر کو سب سے مشکل اسائنمنٹ کا سامنا کرنا پڑا یعنی اپنی صلاحیتوں کو پاکستان میں آزمانا جہاں کی اٹھارہ کروڑ آبادی جرائم اور عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔
    مگر مجرموں کو پکڑنا محمد طاہر کے لیے بڑا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کا تاریخی فوجداری نظام انصاف بڑی رکاوٹ سمجھا جاسکتا ہے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    شواہد کو پیش کرنے کا تصور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنایا جانے والا نیا تصور ہے۔
    مقدمات کا اکثر انحصار عینی شاہدین پر ہوتا ہے جنھیں باآسانی خریدا یا ڈرا دھمکا کر بیان بدلنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی اور قتل کے ملزمان عام طور پر آزاد ہوجاتے ہیں۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    تو محمد طاہر، نرم لہجے والے ایسے شخص جن کا شوق مطالعہ اور باغبانی ہے، ایک جستجو کے ساتھ آئے ہیں کہ فارنزک سائنس کو فروغ دیا جائے۔
    65 سالہ محمد طاہر بتاتے ہیں " ٹھوس شواہد جھوٹ نہیں بولتے وہ انسانوں کی طرح جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے، یہ خاموش گواہ ہوتے ہیں جنھیں ہمارے عدالتوں میں بولنے پر مجبور کرتے ہیں"۔
    محمد طاہر پاکستان اور امریکا دونوں ممالک کے شہری ہیں اور ان کی امریکا میں اپنی فارنزک لیبارٹری بھی ہے اور انہوں نے امریکی پولیس کے ساتھ 36 سال تک کام کیا اور ایف بی آئی کو فارنزک سائنس پر ہینڈ بک لکھنے میں مدد فراہم کی۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    سال 2008 کے بعد جب پاکستان میں عسکریت پسند حملے بڑھنے لگے تو پنجاب کے وزیراعلیٰ نے محمد طاہر سے رابطہ کیا اور مدد کی درخواست کی تاکہ لاہور شہر میں 31 ملین ڈالرز کی لاگت سے ایک فارنزک لیبارٹری کو ڈیزائن کیا جاسکے، اس کے لیے سائنسدانوں کا انتخاب کرنے کے ساتھ جرائم کو حل کرنے کے لیے نئے معیارات کو نافذ کیا جائے۔
    اس لیبارٹری کی تکمیل 2012 میں ہوئی اور ابتداءمیں یہاں کام کی رفتار سست تھی مگر محمد طاہر بتاتے ہیں کہ اب اس لیب میں روزانہ چھ سو کیسز کو لیا جارہا ہے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    وہ بتاتے ہیں کہ اگر پولیس کی جانب سے شواہد یا مشتبہ افراد کو بھیجا جائے تو اس سے دوگنا زیادہ تعداد کو بھی آسانی سے نمٹایا جاسکتا ہے " پولیس تعلیم یافتہ نہیں وہ ہماری اہلیت سے واقف نہیں ہم انہیں اس شعبے کی تعلیم دے رہے ہیں"۔
    پولیس سے درپیش مسائل
    یہ چمکتی دمکتی نئی لیبارٹری کو بہت جلد ہی معلوم ہوگیا کہ پولیس کے بہت کم اہلکار ہی جانتے ہیں کہ کس طرح جرائم کے مناظر کو محفوظ کرنا چاہئے اور شواہد اکھٹے کیے جانے چاہئے۔
    ڈی ای اے نمونوں کو پولیس کی جانب سے فضول سمجھا جاتا ہے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    تجزئیے کے لیے آنے والی گنیں اہلکاروں کے فنگرپرنٹس سے بھری ہوتی ہیں اور لیب کے ایک سائنسدان نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا " اگر کچرا آئے گا تو کچرا ہی باہر نکلے گا"۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے محمد طاہر نے کرائم سین انویسٹی گیشن یونٹس تشکیل دیئے اور پولیس کو تربیت دینا شروع کی اور اب ڈی این اے ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں موصول ہونے والے پچاس فیصد کے لگ بھگ نمونے درست طریقے سے پیک ہوتے ہیں۔
    طاہر بتاتے ہیں " اب حالات میں بہتری آرہی ہے"۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    اب تک ایک لاکھ 85 ہزار نفری میں سے 3100 پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جاچکی ہے مگر پیشرفت کافی سست روی کا شکار ہے اور پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل مشتاق سکھیرا کہتے ہیں کہ پولیس اب بھی " بہت کم" کرائم سینز کو محفوظ کرپاتی ہے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    عدالتی نظام سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق درجنوں مقدمات میں مشتبہ افراد کی بجائے اہلکاروں کو اپنے ہی فنگرپرنٹس کرائم سنز پر ملتے ہیں۔
    کچھ پولیس اہلکار نظام سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک پراسیکیوٹر اور ایک سائنسدان نے رائٹرز کو بتایا کہ کئی بار پولیس کی جانب سے مشتبہ ملزم کی گن اور کرائم سین پر ملنے والی گولیوں کو پلانٹ کردیتے ہیں۔
    عدالتیں عام طور پر پولیس کو ناقابل اعتبار سمجھتی ہیں اور کسی ملزم کے اعتراف جرم کو قانونی طور پر قبول نہیں کیا جاتا کیونکہ مشتبہ افراد کو اکثر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پولیس پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ کتابی شواہد کے معاملے میں بہتر بنے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    مشتاق سکھیرا بتاتے ہیں " آپ کہہ سکتے ہیں کہ فارنزک سائنس کسی ملزم تک پہنچنے کا فوری طریقہ ہے"۔
    محمد طاہر نے پولیس اہلکاروں کی لیبارٹری آمد پر پابندی عائد کررکھی ہے تاکہ ان کے طریقہ کار میں مداخلت نہ ہونے کو یقینی بنایا جاسکے اور جب رائٹرز کے رپورٹرز نے لیبارٹری کا دورہ کیا تو وہاں اہلکار بیسمنٹ میں بے تابی سے بیٹھے انتظار کررہے تھے جبکہ کچھ سفید پیکجز کو سرخ سیل اور رسیوں سے سیل کررہے تھے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    عدالتی بحران
    لیب جب ایک رپورٹ تیار کرلیتی ہے تو اسے پراسیکیوٹر کو بھیج دیا جاتا ہے مگر ججز، وکلاءاور گواہ کو اکثر دھمکیاں یا قتل کردیا جاتا ہے، جبکہ عدالتوں میں دس لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتواءہیں۔
    اس کا نتیجہ یہ نکلا جرائم پر سزا کی شرح بہت کم ہے، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں ایک تہائی مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں مگر اپیل کے بعد پچاس فیصد فیصلے بدل دیئے گئے۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    ایک چوتھائی سے بھی کم قتل کے ملزمان کو سزا دی جاتی ہے مگر محمد طاہر کا کہنا ہے کہ ان کی لیب نے کچھ نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اپنی اسکاٹش بیوی کو زہر دینے والے ایک شخص نے اعتراف جرم کیا جس کی وجہ ٹوکسکولوجی اور پولی گراف ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے شواہد فراہم کرنا تھا۔
    دو افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے خودکش جیکٹیں ان کے سر تھوپی ہیں مگر لیباری کے کمپیوٹر سیکشن نے ان کے موبائل فونز سے ایسی ڈیلیٹ ویڈیوز کو ڈھونڈن نکالا جس نے ان کے جرم کو ثابت کردیا۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    اسی طرح ایک فرد نے ایک پانچ سالہ بچے کو ایک مسجد میں زیادتی کے بعد قتل کردیا اور اس کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی جبکہ دیگر سات مشتبہ افراد کو رہا کردیا گیا۔
    İmage
    رائٹرز فوٹو
    محمد طاہر بتاتے ہیں " ایک طرف آپ ایک شخص کو جرم کے الزام سے نجات دلاتے ہیں اور دوسری جانب آپ ایسے فرد کو تلاش کرتے ہیں جس نے درحقیقت جرم کیا ہوتا ہے، اس سے زیادہ کوئی چیز آپ کو خوش نہیں کرسکتی"۔

    Print this item Send this item to a friend

      Tawakal Ki Misal
    Posted by: saira - 01-26-2015 05:01 PM
    33 Views - 1 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      rizaq main barkat
    Posted by: saira - 01-26-2015 04:58 PM
    30 Views - 2 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Sardi Ki Dua
    Posted by: saira - 01-26-2015 04:54 PM
    25 Views - 1 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Farman e Hazrat Sheikh Syed Abdul Qadir Jeelani RA More: http://forum.chatdd.com/isl
    Posted by: saira - 01-26-2015 04:48 PM
    33 Views - 1 Replies

    İmage

    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage

    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage


    İmage

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Sunehri kirnain
    Posted by: munawer gondal - 01-26-2015 04:34 PM
    28 Views - No Replies

    سُنہری کرنیں


    عجائب القرآن۔۔۔۔۔
    جب سورہ تبت یدا نازل ہوئی اور ابو لہب اور اس کی بیوی ”ام جمیل“ کی اس
    سورہ میں مذمت اتری تو ابو لہب کی بیوی ام جمیل غصہ میں آپے سے باہر ہو گئی
    اور ایک بہت بڑا پتھر لے کر وہ حرم کعبہ میں گئی




    علامہ عبدالمصطفیٰ:

    ابو لہب کی بیوی کو رسول ﷺ نظر نہ آئے!

    جب سورہ تبت یدا نازل ہوئی اور ابو لہب اور اس کی بیوی ”ام جمیل“ کی اس
    سورہ میں مذمت اتری تو ابو لہب کی بیوی ام جمیل غصہ میں آپے سے باہر ہو گئی
    اور ایک بہت بڑا پتھر لے کر وہ حرم کعبہ میں گئی اس وقت حضور اکرمﷺ نماز
    میں تلاوت قرآن فرما رہے تھے اور قریب ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ
    تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ ”ام جمیل“ بڑ بڑائی ہوئی آئی اور حضور اقدسﷺ کے
    پاس سے گزرتی ہوئی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی اور
    مارے غصہ کے منہ میں جھاگ بھرے ہوئے کہنے لگی کہ بتاؤ تمہارے رسولﷺ کہاں
    ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میری اور میرے شوہر کی ہجو کی ہے حضرت
    صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرے رسولﷺ شاعر نہیں ہیں کہ
    کسی کی ہجو کریں پھر وہ غیض و غضب میں بھری ہوئی پورے حرم کعبہ میں چکر
    لگاتی پھری اور بکتی جھکتی حضورﷺ کو ڈھونڈتی پھری مگر جب وہ حضورﷺ کو نہ
    دیکھ سکی تو بڑ بڑاتی ہوئی حرم سے باہر جانے لگی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی
    اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگی کہ میں تمہارے رسول کا سر کچلنے کے لئے یہ
    پتھر لے کر آئی تھی مگر افسوس کہ وہ مجھے نہیں ملے حضرت ابو بکر صدیق رضی
    اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرمﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ
    میرے پاس سے وہ کئی بار گزری مگر میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ اس طرح
    حائل ہو گیا کہ آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے باوجود وہ مجھے نہ دیکھ سکی اس
    واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

    ترجمہ:

    ”اور اے محبوب! جب آپ نے قرآن پڑھا تو ہم نے آپ اور ان میں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ ڈال دیا!“

    درس ہدایت: اْم جمیل انکھیاری ہوتے ہوئے اور آنکھ پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے
    باوجود حضورﷺ کے پاس ہی سے تلاش کرتی ہوئی بار بار گزری مگر وہ آپ کو نہیں
    دیکھ سکی۔ بلا شبہہ یہ ایک عجیب بات ہے اور اس کو حضور اکرمﷺ کے معجزہ کے
    سوا کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس قسم کے معجزات حضورﷺ کی طرف سے بار ہا
    صادر ہوئے ہیں اور بہت سے اولیاء اللہ سے بھی ایسی کرامتیں بارہا صادر ہوئی
    ہیں۔

    ذبح ہو کر زندہ ہو جانے والے پرندے

    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدس کے دربار میں
    یہ عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے
    گا! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں
    ہے؟ تو آپ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں؟ میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن
    میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تا کہ میرے دل کو
    قرار آجائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم چار پرندوں کو پا لو اور ان کو
    خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو۔ پھر تم انہیں ذبح کر کے اور ان کا
    قیمہ بنا کر اپنے گردونواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو پھر
    اْن پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں
    گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر آپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ چنانچہ
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ، ایک کبوتر، ایک گدھ، ایک مور ان چار
    پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا
    لیا۔ پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا
    اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر
    رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا کہ یَا
    ایْھالدیکْ (اے مرغ) یا ایھا الحمامتہْ (اے کبوتر) یا ایھالنسر (اے گدھ) یا
    ایھالطاؤسْ (اے مور) آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اْڑنا
    شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست، ہڈی پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو
    گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
    پاس آگئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں
    بولنے لگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ
    ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمنیان و قرار مل گیا۔

    اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ البقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

    ترجمہ:

    ”اور جب حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ تو کیونکر مردہ
    کو زندہ کرے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ چاہتا
    ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ
    ہلا لو پھر ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں بلاؤ تو وہ آپ
    کے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ بڑا غالب، بڑی
    حکمت والا ہے۔“

    تصوف کا ایک نکتہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جن چار پرندوں کو ذبح کیا
    ان میں سے ہر پرند ایک بُری خصلت میں مشہور ہے مثلا مور کو اپنی شکل و صورت
    کی خوبصورتی پر گھمنڈ ہوتا ہے اور مرغ میں کثرت شہوت کی بُری خصلت ہے اور
    گدھ میں حرص اور لالچ کی بری عادت ہے اور کبوتر کو اپنی بلند پروازی اور
    اونچی اُڑان پر نخوت و غرور ہوتا ہے تو ان چاروں پرندوں کے ذبح کرنے سے ان
    چاروں خصلتوں کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے چاروں پرند ذبح کئے گئے تو حضرت
    ابراہیم علیہ السلام کو مردوں کے زندہ ہونے کا منظر نظر آیا اور ان کے دل
    میں نور اطمینان کی تجلی ہوئی جس کی بدولت انہیں نفس مطمئنہ کی دولت مل گئی
    تو جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا دل زندہ ہو جائے اور اس کو نفس مطمئنہ کی
    دولت نصیب ہو جائے اس کو چاہیے کہ مرغ ذبح کرے یعنی اپنی شہوت پر چھری پھیر
    دے اور مور کو ذبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لباس کے گھمنڈ کو ذبح کر
    ڈالے اور گدھ کو ذبح کرے یعنی حرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے اور کبوتر کو
    ذبح کرے یعنی اپنی بلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نخوت پر چھری
    چلا دے اگر کوئی ان چاروں بُری خصلتوں کو ذبح کر ڈالے گا تو انشاء اللہ
    تعالیٰ وہ اپنے دل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس
    کو نفس مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہو جائے گا۔

    Print this item Send this item to a friend

      Allah ki naimatain
    Posted by: munawer gondal - 01-26-2015 02:13 PM
    25 Views - No Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Android battery timing
    Posted by: Fariha Anis - 01-25-2015 02:00 AM
    53 Views - 3 Replies

    Ek achy smartphone main kya hona chye?
    Mery khiyal se achi look
    Mazboti
    achi speed
    Camera result
    Double camera
    Big screen

    Ye chezain ehm hoti hain kiu ke android main software to sab same hoty hain
    Her company new daily new look introduce krwati hy camera ziya se ziyada megapix ka deti hy
    But ek cheez ki taraf kisi company ka dhiyan nhi wo hy battry timing
    Android phones boht mushkal se ek din timing dety hain jab thory old ho jain phir drip ki tarah charger laga kr hi rakhna pehrta hy
    Mery khiyal se agar hum phone ko masalsal 3g net per use krain to ziyada se ziyada 5 hours timing hy
    Jo boht kam hain jab battery 40% se 35% tak hoti hy to hum kanjosi krtny per majbor ho jaty hain yani calls ke lye battery bachany ki koshash krty hain 3g aur wifi off kr ke
    Ye problem hy battery ka agar is ki taraf companies dhiyan dain to best hy aam mobile ki tarah 3 se 4 din battery chaly to kitna best ho

    Print this item Send this item to a friend

      kon jeety ga
    Posted by: Fariha Anis - 01-24-2015 11:51 PM
    43 Views - 3 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      mujh sa nadaan
    Posted by: Fariha Anis - 01-24-2015 11:29 PM
    52 Views - 4 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      shadi ke bahd kon kamyaab rahy gi?
    Posted by: Fariha Anis - 01-24-2015 11:22 PM
    119 Views - 15 Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      kiya ap kabi kisi ke liye roye?
    Posted by: Fariha Anis - 01-24-2015 11:16 PM
    38 Views - No Replies

    İmage

    Print this item Send this item to a friend

      Jobs in Mandi Bahauddin for the post of Sub Inspector (BPS-14)
    Posted by: Mozzam - 01-23-2015 10:08 PM
    291 Views - No Replies

    Punjab Public Service Commission recently via news paper advertisement invited out the applications for the positions of Sub Inspectors in all the divisions of Punjab. Totol of 200 vacant positions whom recruitment will be done on the basis of PPSC examination.

    Last Date of Submission of Online Application form: 4th February 2015
    For the eligibilty details, education required and age limitations follow out the below given link
    http://www.ppsc.gop.pk/Adds/AD032015.htm
    Punjab Police Sub Inspectors Jobs 2015 Via PPSC Recruitment Advertisement








    İmage

    Print this item Send this item to a friend

    [-]
    Today's Birthdays
    (29)UMAIR SHAIKH
    [-]
    advisement
    [-]
    Top Posters
    munawer gondal
    52,250 Posts
    saira
    51,422 Posts
    Mozzam
    41,858 Posts
    Amir
    36,030 Posts
    Dani Baba
    20,311 Posts
    AkhtarGondal
    15,041 Posts
    وسیم رانجھا
    10,309 Posts
    Jamil Muhammad
    10,010 Posts
    Saim Ali
    8,118 Posts
    zara
    7,072 Posts
    mirza
    2,951 Posts
    Fariha Anis
    1,437 Posts
    princess fatima
    1,238 Posts
    Lubna Rani
    971 Posts
    Nadeem
    926 Posts
    [-]
    Search
    Pro Portal 1.0 © 2010 DragonFever